.

Sunday, August 4, 2013

شہباز تاثیر اغوا کیس، ملزمان کی شناخت پریڈ

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے اغوا میں ملوث تین ملزموں کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا ہے۔ اس عدالتی کارروائی کے ساتھ ہی اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ پولیس شہباز تاثیر کے اغواکاروں تک تو پہنچ گئی ہے لیکن فی الحال انہیں بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔
لاہور میں سی آئی اے پولیس ایس پی عمر ورک نے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کو بتایا کہ ان تینوں ملزموں کا تعلق لاہور سے ہے اور انھیں ازبک ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا کہ تینوں ملزم فرہاد بٹ، اختر اور عبدالرحمان تحریک طالبان القاعدہ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور اغوا برائے تاوان کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
سابق گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو دوسال پہلے اگست کے مہینے میں ہی دن دہاڑے اُن کے دفتر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
سپرنٹنڈنٹ پولیس عمر ورک نے بتایا کہ ان ملزموں نے شہباز تاثیر کو اغوا کرنے کے بعد انہیں افغانستان کی سرحد پر اپنے ساتھی طالبان کے حوالے کردیا تھا اور ان ملزموں کی گرفتاری کے بعد شہباز تاثیر کی بازیابی کے لیے رابطے کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کرسکتے کیونکہ اس سے شہباز تاثیر کی رہائی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزموں سے امریکی شہری وارن وائنسٹین کے اغوا کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جاری ہے۔ ایک امریکی امدادی ادارے کے ادھیڑ عمر کے سربراہ وارن وائنسٹین کو بھی لاہور سے اغوا کیا گیا تھا۔
شہباز تاثیر کے والد پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اغوا سے چند مہینے پہلے قتل کردیا گیا تھا اور ان قتل کے ملزم ممتاز قادری کو اگرچہ عدالت نے سزائے موت سنائی ہے لیکن پاکستان کے بعض مذہبی حلقے ان کے حمایتی ہیں۔
سی آئی اے پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز تاثیر کے قتل میں بھی شدت پسند مذہبی گروپ ملوث تھا جو اس سے پہلے بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔
ان ملزموں نے ایک کاروباری شخصیت شیخ شاہد کے اغوا کا بھی اعتراف کیا ہے اور انہیں دس کروڑ روپے تاوان کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔
مقتول سلمان تاثیر کا شمار پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا اور ان کے صاحبزادے کی رہائی کے لیے ان کے اہلخانہ بھاری تاوان ادا کرنے کے لیے بھی تیار تھے لیکن تاحال یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔
گذشتہ چند روز سے پاکستانی میڈیا میں تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ شہباز تاثیر سنہ دوہزار بارہ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس خبر کی کہیں سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ملزموں سے تفتیش کرنے والی سی آئی اے پولیس نے ایسی کسی اطلاع سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کے لیے رابطے کیے جارہے ہیں۔




Israeli Airstrike in Gaza Claims Lives of Three Sons of Hamas Political Leader Ismail Haniyeh

Three Sons of Hamas Leader Killed in Israeli Airstrike Overview Three sons of Hamas’ most senior political leader, Ismail Haniyeh , were kil...